اشعار بزمِ سخن

بزمِ ناصر – ناصر کیا کہتا پھرتا ہے

اردو شاعری کی بہترین سائٹ

بزمِ ناصر کاظمی

[spacer size=”10″]

بزمِ ناصر – ناصر کیا کہتا پھرتا ہے خوبصورت شعار کا گلدستہ ہے باذوق لوگوں کی نظر

[box title=”شعر نمبر 1″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے، کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
دیوانہ ہے، دیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے
کپڑے بدل کر، بال بنا کر، کہاں چلے ہو کس کے لیے
رات بہت کالی ہے ناصرؔ گھر میں رہو تو بہتر ہے

[/box]

[box title=”شعر نمبر 2″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
جوشِ جنوں میں دردِ کی طغیانیوں کیساتھ
اشکوں میں ڈھل گئی تری صورت کبھی کبھی

[/box]

[box title=”شعر نمبر 2″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

دیکھ محبت کا دستور
تو مجھ سے میں تجھ سے دور
دل کی دھڑکن کہتی ہے
آج کوئی آئے گا ضرور

[/box]

[box title=”شعر نمبر 3″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

غم یا خوشی ہے تو
میری زندگی ہے تو
آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ہے تو

[/box]

[box title=”شعر نمبر 4″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

دل میں اور تو کیا رکھا ہے
تیرا درد چھپا رکھا ہے
چپ چپ کیوں رہتے ہو ناصر
یہ کیا روگ لگا رکھا ہے

[/box]

[box title=”شعر نمبر 5″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

کہیں اجڑ اجڑی سی منزلیں کہیں ٹوٹے پھوٹے سے بام و در
یہ وہی دیار ہے دوستو، جہاں لوگ پھرتے تھے رات بھر
جنہیں زندگی کا شعور تھا انہیں بے زری نے بچھا دیا
جو گراں تھے سینہ خاک پر وہی بن کے بیٹھے ہیں معتبر

[/box]

بزمِ ناصر – ناصر کیا کہتا پھرتا ہے

راقم کے مطعلق

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

اظہار کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے