بزمِ سخن

بزم فراز – زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تو

Ahmed Faraz بزم فراز - زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تو

بزم احمد فراز

بزم فراز – زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تو  احمدفراز کے حسین کلام سے منتخب اشعار ہیں۔

[spacer size=”10″]

[box title=”شعر نمبر 1″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

فضا اداس ہے رت مضمحل ہے میں چپ ہوں
جو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تو
فرازؔ تو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تو

[/box]

[box title=”شعر نمبر 2″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

نہ سہہ سکا جب مسافتوں کے عذاب سارے
تو کر گئے کوچ میری آنکھوں سے خواب سارے
فرازؔ کس نے مرے مقدر میں لکھ دیے ہیں
بس ایک دریا کی دوستی میں سراب سارے

[/box]

[box title=”شعر نمبر 3″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

اماں مانگو نہ ان سے دلفگاراں ہم نہ کہتے تھے
غنیمِ شہر میں چابک سواراں ہم نہ کہتے تھے
جہاں میلہ لگا ہے ناصحوں کا غمگساروں کا
وہی ہے کوچہ بے اعتباراں ہم نہ کہتے تھے

[/box]

[box title=”شعر نمبر 4″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اسکے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اسکو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

[/box]

[box title=”شعر نمبر5″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے
اک یہ بھی اندازِ علاجِ غمِ جاں ہے
اے چارہ گرو، درد بڑھا کیوں نہیں دیتے

[/box]

[box title=”شعر نمبر 6″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے مراسم تھے کہ آتے جاتے
شکوہ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

[/box]

[box title=”شعر نمبر 7″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

اِدھر اک دل اُدھر ساری خدائی
دہائی ہے خداواندا دہائی
فقیہوں کی وہی ہذیاں نویسی
خطیبوں کی وہی ہرزہ سرائی

[/box]

[box title=”شعر نمبر 8″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

رہتے ہیں اہلِ شہر کے سائے سے دور دور
ہم آہوانِ دشت کی صورت ڈرے ڈرے
زندہ دلانِ شہر کو کیا ہو گیا ہے فرازؔ
آنکھیں بجھی بجھی ہیں تو چہرے مرے مرے

[/box]

[box title=”شعر نمبر 9″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

مجھ سے گریز پا ہے تو ہر راستہ بدل
میں سنگِ راہ ہوں تو سبھی راستوں میں ہوں
اے یارِ خوش دیار تجھے کیا خبرکہ میں
کب سے اداسیوں کے گھنے جنگل میں ہوں

[/box]

بزم فراز – زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تو

[box title=”شعر نمبر 10″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دیدوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا

[/box]

[box title=”شعر نمبر 11″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

اب شوق سے کہ جان سے گزر جانا چاہیے
بول اے ہوائے شہر! کدھر جانا چاہیے
یا اپنی خواہشوں کو مقدس نہ جانتے
یا خواہشوں کے ساتھ ہی مر جانا چاہیے

[/box]

[box title=”شعر نمبر 12″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

کل اک فقیر نے کس سادگی سے مجھ سے کہا
تری جبیں کو بھی ترسیں گے آستانے جا
اسے بھی ہم نے گنوایا تری خوشی کے لیے
تجھے بھی دیکھ لیا ہے ارے زمانے جا

[/box]

[box title=”شعر نمبر 15″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

اگر کسی سے مراسم بڑھانے لگتے ہیں
ترے فراق کے دکھ یاد آنے لگتے ہیں
فرازؔ ملتے ہیں غم بھی نصیب والوں کو
ہر اک کے ہاتھ کہاں یہ خزانے لگتے ہیں

[/box]

[divider]

[box title=”شعر نمبر 16″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

حالات کی دوپہر کڑی ہے ساقی
تقدیر برہنہ سر کھڑی ہے ساقی
کچھ دیر غمِ جہاں پہ ہنس لیں آؤ
رونے کو تو زندگی پڑی ہے ساقی

[/box]

[box title=”شعر نمبر 17″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

سکوتِ شامِ خزاں ہے قریب آ جاؤ
بڑا اداس سماں ہے قریب آ جاؤ
نہ تم کو خود پہ بھروسہ نہ ہم کو زعمِ وفا
نہ اعتبارِ جہاں ہے قریب آ جاؤ

[/box]

[box title=”شعر نمبر 18″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

روتا ہوں تو احباب برا مانتے ہیں
ہنستا ہوں تو مجرم مجھے گردانتے ہیں
ہر حال میں اعتراض کرنے والے
ناداں مرے حالات کہاں جانتے ہیں

[/box]

[box title=”شعر نمبر 19″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

کیا خبر انکو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں
جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ
ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ
رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ

[/box]

[box title=”شعر نمبر 20″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

راتیں ہیں اداس دن کڑے ہیں
اے دل ترے حوصلے بڑے ہیں
اب جانے کہاں نصیب لے جائے
گھر سے تو فرازؔ چل پڑے ہیں

[/box]

[box title=”شعر نمبر 21″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

لے اڑا پھر کوئی خیال ہمیں
ساقیا ساقیا سنبھال ہمیں
ہم یہاں بھی نہیں ہیں خوش لیکن
اپنی محفل سے مت نکال ہمیں

[/box]

بزم فراز – زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تو

[box title=”شعر نمبر 22″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

اک زمانے سے روئے ہیں نہ جاں تڑپی ہے
دل پہ لازم ہے تری درد کی تجدید اب کے
قصہ اہلِ وفا جانے کہاں تک پہنچے
منزل دار و رسن ٹھہری ہے تمہید اب کے

[/box]

[box title=”شعر نمبر 23″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

رت جگے خواب پریشاں سے کہیں بہتر ہیں
لرزِ اٹھتا ہوں اگر آنکھ ذرا لگتی ہے
اے رگِ جاں کے مکیں تو بھی کبھی غور سے سن
دل کی دھڑکن ترے قدموں کی صدا لگتی ہے

[/box]

[box title=”شعر نمبر 24″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد اب معلوم
کہ تو نہیں تھا تری ساتھ ایک دنیا تھی
دیارِ اہلِ سخن پر سکوت ہے کہ جو تھا
فرازؔ میری غزل بھی صدا بصحرا تھی

[/box]

[box title=”شعر نمبر 25″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

اے ہمنفسو محوِ غمِ جاں ہیں ابھی ہم
آئیں گے سرِ کوئے ملامت اسے کہنا
اک وہ ہی نہیں ترکِ تعلق پہ پشیماں
ہے اہلِ وفا کو بھی ندامت اسے کہنا

[/box]

[box title=”شعر نمبر 26″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

یہ میں یہ کوئے دار یہ تنہائی دوستو
کیا تم بھی بن گئے ہو تماشائی دوستو
اک بار اس کو میری نگاہوں سے دیکھ لو
پھر خود کہو کہ کون ہے سودائی دوستو

[/box]

[box title=”شعر نمبر 27″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے
اور محبت وہی انداز پرانے مانگے
زندگی ہم ترے داغوں سے رہے شرمندہ
اور تو ہے کہ سدا آئینہ خانے مانگے

[/box]

[box title=”شعر نمبر 28″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

کاش تو بھی مری آواز کہیں سنتا ہو
پھر پکارا ہے تجھے دل کی صدا نے میرے
کاش تو بھی کبھی آ جائے مسیحائی کو
لوگ آتے ہیں بہت دل کو دکھانے میرے

[/box]

[box title=”شعر نمبر 29″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر
چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سرِ کوئے یار کوئی تو ہو
یہ سکونِ جان کی گھڑی ڈھلے تو چراغِ دل ہی نہ بجھ چلے
وہ بلا سے ہو غمِ عشق یا غمِ روزگار کوئی تو ہو

[/box]

[box title=”شعر نمبر 30″ style=”noise” box_color=”#002a08″ radius=”2″]

اور سے اور ہوئے جاتے ہیں معیارِ وفا
اب متاعِ دل و جاں بھی کوئی کیا لے جائے
جانے کب ابھرے تری یاد کا ڈوبا ہوا چاند
جانے کب دھیان کوئی  ہم کو اڑا لے جائے

[/box]

[divider]

راقم کے مطعلق

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

اظہار کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے