بزمِ سخن نظم

دشت تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں

دشت تنہائی میں اے - dasht e tanhaii
Pencil Drawing Of Hand Holding Heart Pencil Drawing Of Hand Holding Heart - Drawing Of Sketch - Drawing Of Pencil

دشت تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں

نظم

دشت تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے
تیرے ہونٹوں کے سراب
دشتِ تنہائی میں دُوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ترے پہلو کے سمن اور گلاب
اُٹھ رہی ہیں کہیں قربت سے
تری سانس کی آنچ
اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی
مدھم مدھم ۔ دور افق پار ۔چمکتی ہوئی
قطر ہ قطرہ ۔ گر رہی ہیں تری دلدار نظر کی شبنم
دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں
اِس قدر پیار سے اے جانِ جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اِس وقت تری یاد نے ہات
یوں گماں ہوتا ہے گر چہ ہیں ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دِن آبھی گئی وصل کی رات
دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہے

شاعر: فیض احمد فیضؔ

راقم کے مطعلق

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

اظہار کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے