بزمِ سخن گلدستۂ غزل

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون بار دیا

کچھ عشق تھا کچھ - Kuch Ishq Tha Kuch Majboori

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون بار دیا

غزل

 

کچھ عشق تھا ‘کچھ مجبوری تھی‘ سو میں نے جیون بار دیا
میں کیسا زندہ آدمی تھا اِک شخص نے مجھ کو مار دیا
یہ سجا سجایا گھر ساقی میری ذات نہیں میرا حال نہیں
اے کاش کبھی تم جان سکو جو اُس سُکھ نے آزار دیا
میں کھلی ہوئی اِک سچائی مجھے جاننے والے جانتے ہیں
میں نے کِن لوگوں سے نفرت کی اور کن لوگوں سے پیار کیا
وہ عشق بہت مشکل تھا مگر آسان نہ تھا یوں جینا بھی
اُس نے عشق نے زندہ رہنے کا مجھے ظرف دیا پندار دیا
میں روتا ہوں اور آسمان سے تارے ٹوٹتے دیکھتا ہوں
اُن لوگوں پر جن لوگوں نے میرے لوگوں کو آزار دیا
وہ یار ہوں یا محبوب میرے یا کبھی کبھی ملنے والے
اِک لذت سب کے ملنے میں وہ زخم دیا یا پیار دیا

شاعر:  عبیداللہ علیم

کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون بار دیا

کوئی کیا جانے کہ ہر مہکنے والے پھول کی خوشبو کے پیچھے کیا کیا دکھ ہو سکتے ہیں، کبھی کبھی تمامتر ہونے کے باوجود انسان کے پاس کچھ نہیں ہوتا، مجبوری میں عشق سے بھی سمجھوتہ ہو جاتا ہے، 

راقم کے مطعلق

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھا ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

اظہار کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے

Urdu Poetry

FREE
VIEW