بزمِ سخن گلدستۂ غزل

دیپک راگ ہے چاھت اپنی

دیپک راگ ہے چاھت اپنی

دیپک راگ ہے چاھت اپنی

غزل

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں
ترکِ محبت، ترکِ تمنا کر چکنے کے بعد
ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے، کیسے بھلائیں تمہیں
سناٹا جب تنہائی کے زہر میں گجتا ہے

وہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں کیسے بتائیں تمہیں
جن باتوں نے پیار تمہارا نفرت میں بدلا

ڈر لگتا ہے وہ باتیں بھی بھول نہ جائیں تمہیں
دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے
روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں
اُڑتے پنچھی، ڈھلتے سائے، جاتے پل اور ہم
بیرن شام کا دامن تھام کے روز بُلائیں تمہیں
دُور گگن پر ہنسنے والے نرمل کومل چاند
بے کل من کہتا ہے، آؤ ہاتھ لگائیں تمہیں
پاس ہمارے آ کر تم بیگانہ سے کیوں ہو؟
چاہو تو ہم پھر کچھ دُوری پر چھوڑ آئیں تمہیں
انہونی کی چنتا، ہونی کا انیائے نظرؔ
دونوں بیری ہیں جیون کے ہم سمجھائیں تمہیں

شاعر: ظہورنظرؔ

[spacer size=”30″]

دیپک راگ ہے چاھت اپنی

ہم اور ہماری محبت میاں – دونوں ہی تو دیپک کے راگ کی طرح ہیں: ہلکی ہکی آنچ پر میٹھی میٹھی آگ کے آلاؤ میں سلگتے رہنا۔

تم جانتے بھی ہو ہم کیا بتائیں تمہیں؟ ہم تو عجب مشکل سے دوچار ہیں کہ تمہیں جو بات بتانا چاہتے ہیں وہ بھی تو نہیں بتا سکتے۔

کیسے کہہ دیں کہ تم سے پیار کرتے تھے اب ترک کر چکے ہیں، تمہیں دل میں بساتے تھے اب ترک کر چکے۔

دن رات راگ کی میٹھی سروں میں چھڑتے رہتے تھے بھلا یہ بتانا آسان ہے؟  دل کے زخم تو شاید آنسو بن کر آنکھوں میں آئے اور تم دیکھ لو
مگر جو گزند ہماری روح کو لگی ہے، جس بات نے ہماری روح کو گھائل کیا ہے وہ کیسے دکھائیں؟

کبھی سوچنا کہ وہ گھڑیاں جن میں سناٹا اور تنہائی کا ملاپ ہو، کیسے کٹتی ہیں؟  کیسے بتائیں کہ ہم نے ایک ایک پل تمہیں پکارا، بلایا، سندیسے بھیجے
کبھی ڈھلتی شام کے سنگ، کبھی چلتی پون کے ہاتھ، کبھی گزرے پل میں گھس کر کبھی سایوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر۔۔

ہمارے پاس آتے ہی تم بیدرد کھٹور بن جاتے ہو جبکہ دوری پر حسن  کی مثال لگتے ہو،

کہو تو پھر سے تمہیں وہیں چھوڑ آئیں؟مگر کچھ بھی ہو یا نہ ہو سب دل والوں کے بیری ہیں۔۔۔

میری زبانی نہیں تو شاھدہ پروین کی زبانی سن لو

اردو شاعری کی بہترین سائٹ

راقم کے مطعلق

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

اظہار کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے