اشعار بزمِ سخن

پھولوں کی رت ہے

پھولوں کی رت ہے

پھولوں کی رت ہے

[box title=”پھولوں کی رت ہے” style=”bubbles” box_color=”#cffc85″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

پھولوں کی رُت ہے ٹھنڈی ہوائیں
اب انکی مرضی وہ آئیں نہ آئیں

انکی جفا یا اپنی وفائیں
کیا یاد رکھیں کیا بھول جائیں

اتنا بتا دے غم دینے والے
آنسو بہائیں یا مسکرائیں

رودادِ الفت کر لیں مکمل
کچھ تم سناؤ کچھ ہم سنائیں

ساحل بھی اپنا طوفاں بھی اپنا
اب پار اتریں یا ڈوب جائیں

بھولی ہوئی بات اک یاد آئی
لیکن سعیدؔ اب کسکو سنائیں

[/box]

شاعر: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت ہو گیا صاحب! اب محبت میں وہ مقام ہے کہ تم آؤ یا نہ آؤ کوئی فرق نہیں پڑتا، دل پہ اتنے جبر سہے ہیں، اتنے دکھ سہے ہیں کہ اب تو کوئی دکھ دکھ نہیں لگتا، کوئی غم غم نہیں لگتا، جب اپنی وفائیں یا تمہاری جفائیں کیا یاد رکھیں اور کیا بھول جائیں؟ کوئی فرق پڑتا ہے؟ بس تنا بتا دے، ہمیں محبت کے اس مقام پر ہنسنا چاھیے یا رونا؟ یا یہ سنا دو کہ کیا تمہیں رودادِ محبت یاد ہے؟ سناؤ تو ذرا کہ کہاں کس نے بیوفائی کی؟ پر نہیں تمہیں ان باتوں سے کیا سروکار اب، تمہیں کیا کہ ہم ڈوبیں یا پار اتریں – بس ایک بھولی بسری بات یاد آئی تھی، تم سے وابستہ سی، پر اب کس کو سنائیں؟ کیا فائدہ؟ 

پھولوں کی رت ہے

اردو شاعری کی بہترین سائٹ

راقم کے مطعلق

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

اظہار کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے