اشعار بزمِ سخن

بیاض حسرت

بیاض حسرت

Urdu Hasrat Poetry, hasti, rudaad, muhabbat, chashm, andhera, daastan, tamana, sila, rukhsat, mehroomi, dolat, fursat,deed, eid, azab, farq, fard, qarz, urdu sad poetry

بیاض حسرت

[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

خواہشیں، حسرتیں، تمنائیں
لمحہ لمحہ نئی اذیت ہے!
زندگی بھر کا سوچنے والو!
زندگی کی کوئی ضمانت ہے!

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

عدم سے ہستی میں جا کر یہی کہوں گا میں
ہزاروں حسرتِ زندہ کو گاڑ داب آیا!

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

رودادِ محبت کیا کہیے، کچھ یاد رہی کچھ بھول گئی
دو دن کی حسرت کیا کہیے، کچھ یاد رہی کچھ بھول گئی

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

رہ گئی دل ہی میں اپنے حسرتِ اظہارِ شوق
لکھ کے خط جب ہم نے ڈھونڈا نامۂ بر کوئی نہ تھا

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں
میں نے تجھ سے مخاطب ہوں تیرا حال بھی پوچھوں
تھا شک بن کے میری آنکھوں میں سما جا
میں آئینہ دیکھوں تو تیرا عکس بھی دیکھوں

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

اے جنوں دشتِ عدم کے کوچ کا ساماں کیا
جسم کے جامے کو میں نے چاک تا داماں کیا
مر گئیں تیری جدائی میں ہزاروں حسرتیں
عشق غارت گر نے میرے دل کو گورستاں کیا

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

حسرتوں کا خون مل دوں گا رخِ حالات پر
جاؤں گا محفل سے لیکن رنگ اپنا چھوڑ کر
چشمِ نظارہ کو شاید یہ نہیں معلوم تھا
روشنی جاتی ہے آنکھوں میں اندھیرا چھوڑ کر

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

میرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے
میری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کے روئے

 

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

تجھے بھول کر نہ بھلا سکوں،  تجھے چاہ کر نہ پا سکوں
مری حسرتوں کا شمار کر مری چاہتوں کا صلہ نہ دے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

اب دل کی تمنا ہے تو کاش یہی ہو
آنسو کی جگہ دل سے حسرت نکل آئے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

رخصت ہوا جو سال تو محسوس یہ ہوا
ہر ماہ حسرتوں کا لہو چوستا رہا

 

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

محرومیوں کے دور میں کن حسرتوں کے ساتھ
ہم پتھروں کے دل میں خدا ڈھونڈتے رہے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

ہزاروں حسرتیں جاویں گی میرے ساتھ دنیا سے
شرار و برق سے بھی  عرصۂ ہستی کو کم پایا

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

مر گئیں تیری جدائی میں ہزاروں حسرتیں
عشقِ غیرت گر نے مرے دل کو گورستان کیا

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

حسرتِ دید میں گزراں ہیں زمانے کب سے
دشتِ امید میں گرداں ہیں دیوانے کب سے
دیر سے آنکھ پہ اترا نہیں اشکوں کا عذاب
اپنے ذمے ہے ترا فرض نہ جانے کب سے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

لمحوں میں قید کر دے جو صدیوں کی چاہتیں
حسرت رہی کہ ایسا کوئی اپنا بھی طلبگار ہوتا!

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

حسرت ہے تمہاری دید کریں
تم آؤ تو ہم بھی عید کریں

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

ہم خاکِ زمیں ہو کر اس چاند کی حسرت کر بیٹھے
وہ چیز ستاروں سے بھی اونچی تھی جسے ہم محبت کر بیٹھے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

میری حسرت کے جنازے کو اٹھانے والے
کتنے بیدرد لوگ ہیں یہ زمانے والے
کوئی اپنا نہیں مطلب کی ہے دنیا ساری
اب کہاں ملتے ہیں وہ یار پرانے والے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

کون اپنا تھا یہاں کس پہ عنایت کرتے
ہمیں حسرت ہی رہی ہم بھی محبت کرتے
اس نے سمجھا ہی نہیں ہمیں کسی قابل
ورنہ اس سے عشق نہیں اسکی عبادت کرتے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

کون اپنا تھا یہاں کس پہ عنایت کرتے
ہمیں حسرت ہی رہی ہم بھی محبت کرتے
اس نے سمجھا ہی نہیں ہمیں کسی قابل
ورنہ اس سے عشق نہیں اسکی عبادت کرتے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

تیرے آنے کی آس پر زندہ ہوں اب تک
اب تجھے دیکھنے کی حسرت کے سوا کچھ نہیں
تصویر تیری آنکھوں میں اتر گئی اس طرح
نظر کہیں بھی جائے تیری صورت کے سوا کچھ نہیں

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے پکارے
ارمان ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

اسکی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہیں سکوں
ڈھونڈتا اسکو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

میری جانِ جگر اب میری نظر کے سامنے ہے
میری لختِ جگر اب میری نظر کے سامنے ہے
جس کے دیدار کی حسرت میں میں کب سے تھا بے چین
وہ شام و سحر اب میری نظر کے سامنے ہے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

حسرت سے دیکھتا ہوں انجامِ سفر کو میں
پا بھی سکوں گا اپنی دعا کے اثر کو میں
غمِ انتظار عالمِ نزاع سے کم نہیں
سمجھاؤں کیسے تجھ سے بالغ نظر کو میں

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

ساتھ چلنے میں جو مزہ ہوتا
وہ ہمیں بھی کبھی ملا ہوتا
یہی حسرت رہی ہماری فقط
ساتھ اپنے کوئی چلا ہوتا

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

افسانے دردِ محرومی کے دوہرائے نہیں جاتے
کچھ ایسے زخم ہوتے ہیں جو دکھائے نہیں جاتے
تمنا، آرزو، حسرت، امید، وصال اور چاہت
یہ لاشے رکھ لیے جاتے ہیں دفنائے نہیں جاتے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

بڑھ گئی ہے عشق میں حرص اسقدر اپنی کہ ہے
غمِ پہ غم کی آرزو، حسرت پہ حسرت کی طلب

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

تھی جو مدت سے حسرتِ انصاف
فیصلہ لکھ دیا خود اپنے خلاف

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

حسرتِ دید دلِ زار میں مر جائے ہے
عید پردیس میں بے کیف گزر جائے ہے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

غم  مجھے، حسرت مجھے، وحشت مجھے، سودا مجھے
اک دل دیکر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

مرے محبوب تری راہ میں نظریں بچھائے ہم
کھڑے ہیں آج بھی   حسرت چھپائے سینے میں

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

ان کی حسرت میری تقدیر میں لکھنے والے
کاش ان کو میری تقدیر میں لکھا ہوتا

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

تیری ہنستی ہوئی دنیا میں یا ربّ
ہمیں ہنسنے کی حسرت ہی رہی ہے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

نہ اتنا بھی کوئی حسرت زدہ مجبور ہو جائے
کہ ہو نزدیک منزل اور اس سے دور ہو جائے
حفاظت دل کی کیوں کوئی کرے راہِ محبت میں
یہ شیشہ ہے یہی بہتر کہ چکنا چور ہو جائے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

کچھ آرزو کے پھول تصور میں کھل اٹھے
حسرت کا اک مزار بنا کر چلے گئے
اپنوں نے رہبری کا تقاضا کیا تھا خوب
کانٹوں کے جال راہ میں بچھا کر چلے گئے

[/box]
[box title=”بیاضِ حسرت” style=”noise” box_color=”#453000″ title_color=”#ffffff” radius=”4″]

اب حسرتِ نزولِ مسیحا کرے کوئی
ہر زخمِ لا علاج کو اچھا کرے کوئی

[/box]

انتخاب و پیشکش: مسعودؔ

اردو شاعری کی بہترین سائٹ
Shab-o-Roz

راقم کے مطعلق

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

اظہار کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے