گلدستۂ غزل

کہوں کس سے قصۂ دردوغم

کہوں کس سے قصۂ دردوغم
کہوں کس سے قصۂ دردوغم

کہوں کس سے قصۂ دردوغم کوئی ہم نشیں ہے نہ یار ہے
جو انیس ہے تیری یاد ہے جو شفیق ہے دلِ زار ہے

توہزار کرتا لگاوٹیں میں کبھی نہ آتا فریب میں
مجھے پہلے اسکی خبر نہ تھی ترا دو ہی دن کا یہ پیار ہے

یہ نوید اوروں کو جا سنا ہم اسیرِ دام ہیں اے صبا
ہمیں کیا چمن ہے جو رنگ پر ہمیں کیا جو فصلِ بہار ہے

مجھے رحم آتا ہے دیکھ کر ترا حال اکبرِ نوحہ گر
تجھے وہ بھی چاہیں خدا کرے کہ تو جسکا عاشقِ زار ہے

شاعر: اکبر الہ آبادی

“آئی لو یو مسعود “
“کوئی دل کے نشان نہیں کوئی علامتیں نہیں – بس تم سے محبت ہے اور ٹوٹ کر محبت ہے” 
یہی کہا تھا نا تم نے؟ یہی کہا تھا نا کہ تم بن جینےوالی ایک ایک سانس میرے لیے الزام ہو گی۔ تو میری روح ہے اور میں تیرا جسم! تو میرے اندرایسے سمایا ہے کہ تجھ بن میرا جینا ایک دکھ ہوگا! میں تم بن کیسے جی پاؤں گی مسعود؟ وہ تمہاری باتیں، وہ تمہاری سانسسیں جو میری سانسوں سے ٹکرائی جب تو سہمی سہمی ہوئی مجھ سے ملی! توپریشان تھی! اداس تھی! تجھے میرے بانہوں میں سمانا تھا – خود کو ایک حصار میں سمونا تھا!  

آج جب میں پلٹ کر دیکھتا ہوں تو میرے پاس تیری باتوں کے جھوٹ، تیرے وعدوں کے فریب، تیرے تصویروں کے سراب، تیری یادوں کے عذاب کے سوا کیا ہے؟ میرے درد کے قصے میں وہ لمحات جو تمہارے ساتھ گزرے وہی شفیق ہیں وہی انیس ہیں۔ انکے علاوہ میرا کون ہے؟ کیا ہے؟

مگر وہ ساتھ ایک فریب تھا! تیری محبت کا آسیب تھا! وہ میرا لاکھ سمجھانے کے باوجود تیرا لگاوٹیں کرنا، وہ تیری معصومیت پر میرا کئی کئی پل چپ چاپ تجھے دیکھتے رہنا، وہ تیری ضد! وہ تیرا اسرار! وہ تیرا پیار! وہ تیرا اقرار! سب کا سب وقتی لگاوٹیں تھیں۔ اے کاش!!! مجھے تیرے مکروفریب کا پہلے علم ہوتا! اے کاش میں تیرے عہدوپیمان کے پیچھے چھپے مکروفریب کو سمجھ پاتا کہ تیری قسمیں فقط وقعتاً تھی! تیرے پیار کا محل ناپائیدار ہے، مگر تیرا اسرار!!! ہائے قسمت میں کہاں دل لگا بیٹھا! ہائے مجھے علم ہوتا کہ تو  وقتی جذبات میں اڑتی ہوئی ایک بیوفا بے مروت تتلی ہے تو میں تیری اس دو دن کی  محبت کے فریب میں نہ آتا!!!

اے بیوفائی کے پتلے!!! تجھے بھی بدلنے کے لیے ایک لمحہ چاہیے تھا! ایک پل چاہیے تھا اور تیری ہر قسم، ہر سچائی جھوٹ کا ڈھیر ثابت ہوئی۔ مگر میں؟ میں تو آج بھی تیرے وعدوں کے فریب میں پھنسا ہوا ہوں! میں تو آج بھی انتظار کر رہا ہےکہ تم نے کہا تھاکہ میں دنیا کی ہر دیوارپھلانگ کر آؤنگی! تم نے مجھے انتظار کا کہا تھا کہ نہیں؟ تم نے تو کبھی الوداع نہیں کہا؟ تو میں کیوں نہ تمہارے انتظار میں رہوں؟ اے صبا! اے نسیمِ صبح! جا کر کسی اور کو کہو کہ گلشن میں بہارآئی ہے! کسی اور کو بتاؤ کہ زخم بھرنے کے دن آئے ہیں! ہم اسیرِ دام ہیں – ہمیں بہاروگل وگلشن سے کوئی غرض نہیں!

یہ کیسا روگ لگ گیا مجھ کو؟شعر یاد آیا:

یہ کیسے روگ پال لیے ہیں تو نے او مسعود میاں
سب کچھ خواب خیال ہوا یادیں ہیں موجود میاں

میرے پاس تیری یادوں کے سوا کچھ نہیں! تیرے باتوں کے سوا کچھ نہیں! دن رات کڑھتا ہے دل! دن رات بھیجتا ہے دل! میرا حال کوئی وہی جان سکتا ہے جس نے دل سے کسی کو محسوس کیا ہو! میرا حال مجنوں ہی جان سکتا ہے! میرے حالتِ زار دیکھکر تو اکبرکو بھی تکلیف ہوئی! اب یہ فقط ایک دعا ہی کی جاسکتی ہےکہ وہ بیوفا! بے مروت! سنگدل! پتھردل! وہ آج بھی تیری محبت میں گرفتار ہو!!

تبصرہ :مسعود

کہوں کس سے قصۂ دردوغم  کہوں کس سے قصۂ دردوغم  کہوں کس سے قصۂ دردوغم  کہوں کس سے قصۂ دردوغم  کہوں کس سے قصۂ دردوغم  کہوں کس سے قصۂ دردوغم

اردو شاعری کی بہترین سائٹ

راقم کے مطعلق

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

اظہار کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے