ٹیگزabida parveen

بزمِ سخن گلدستۂ غزل

نعرۂ مستانہ

نعرۂ مستانہ میں نعرۂ مستانہ، میں شوخیء رندانہ میں نعرۂ مستانہ میں شوخئ رندانہ میں تشنہ کہاں جاؤں پی کر بھی کہاں جانا میں سوزِ محبت ہوں میں ایک قیامت ہوں میں...